بنگلورو،3؍ستمبر(ایس او نیوز) ایسے مرحلے میں جبکہ ملک کی بیشتر ریاستوں نے جی ایس ٹی بقایاجات ادا کرنے میں مرکزی حکومت کے انکار پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے مرکزی حکومت کی طرف سے ریاستوں کو دئے گئے دو انتخاب میں سے ایک کو چن لینے کا فیصلہ لیا ہے۔
مرکزی حکومت نے ریاستوں کو جی ایس ٹی کی رقم دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ جن ریاستوں کو رقم کی فوری ضرورت ہے ان کو مرکزی حکومت کی طرف سے جی ایس ٹی کی رقم کی بجائے قرضہ دیا جائے گا۔ موجودہ مالی حالات کے سبب مرکز نے جی ایس ٹی کی رقم میں سے ریاستوں کا جی ایس ٹی کا حصہ دینے سے انکار کرتے ہوئے دو انتخاب دیتے ہوئے کہا کہ جن ریاستوں کو رقم کی فوری ضرورت ہے وہ پہلے انتخاب کے تحت یا تو قرضہ لینے کا فیصلہ کرسکتی ہیں یا دوسرے انتخاب کے تحت ریاستوں کو بازار سے قرضہ اٹھانے کا مشورہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس قرضہ کے لئے انہیں ایک فیصد سود بھی ادا کرنا ہو گا۔
مرکزی حکومت کی طرف سے دئیے گئے پہلے انتخاب کے تحت کرناکے کے حصہ میں آنے والے 18ہزا ر کروڑ روپے کے جی ایس ٹی میں سے 6965کروڑ روپے سیس کا حصہ ہیں جبکہ واجب الادا 11ہزار کروڑ روپے کرناٹک کو قرضے کے طور پر لینے ہوں گے۔ دوسرے انتخاب کے تحت کرناٹک کو واجب الادا جی ایس ٹی رقم 25ہزا ر کروڑ میں سے 6965کروڑ روپے کی رقم سیس میں چلی جائے گی باقی 18ہزار کروڑ روپے حکومت کو مالیاتی اداروں سے قرضہ کے طور پر لینی ہو گی جس کے لئے سودسمیت دیگر شرائط رکھی گئی ہیں۔
مرکزی حکومت کی طرف سے ان دونوں تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے فیصلہ لیا کہ وہ مرکزی حکومت کی طرف سے دی گئی پہلی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں اس کے تحت کرناٹک کو جی ایس ٹی کی رقم مرکزی حکومت سے طلب کرنے کی بجائے 11ہزار کروڑ روپے بطور قرضہ لینے ہوں گے۔اس قرضہ کی ادائیگی کی پوری ذمہ داری ریاستی حکومت پر ہو گی۔ مرکزی حکومت کی طر ف سے دونوں تجاویز میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ جی ایس ٹی کے واجب الادا بقایاجات کب دئیے جائیں گے۔